17 ستمبر 2026 - 17:02
نیلسن منڈیلا اور فیڈل کاسترو آیت اللہ خامنہ ای کے طرزِ قیادت کے گرویدہ تھے، پروفیسر ٹم اینڈرسن - 2

پروفیسر ٹم اینڈرس نے کہا: رہبر شہید امام سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) ایران کے مرحوم رہبر، کے بارے میں تجزیہ ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، نہ صرف ایرانی اور مسلمان بلکہ بہت سے دوسرے لوگ بھی اُن سے محبت کرتے تھے اور اُن کا سوگ منا رہے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی انقلاب کے رہبرِ شہید، آیت اللہ امام سید علی حسینی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ)، نہ صرف ایرانی عوام بلکہ تمام احرارِ عالَم کے لئے بھی متاثر کن اور ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ تھے۔ اسی بنیاد پر، بہت سی آزاد بین الاقوامی شخصیات نے اُن کی شہادت کے موقع پر ویڈیو بیانات جاری کئے۔ جن میں سے ایک پروفیسر ٹِم اینڈرسن (Prof. Tim Anderson) ہیں جو کہتے ہیں:

دوسری اور آخری قسط:

• علاقائی یکجہتی:

فلسطینیوں کی جدوجہد کے لئے ایران کی غیر متزلزل حمایت حیران کن رہی۔ اس حمایت کی بنیاد، اسلامی جمہوریہ کے بانی اور رہبر، آیت اللہ سید روح اللہ خمینی نے رکھی تھی۔ پھر، محور مقاومت (Axis of Resistance) سید علی خامنہ ای کی رہنمائی میں تشکیل پایا۔ علاقے کی تمام آزاد قومیں اور حکومتیں وقت کے ساتھ اس محور میں شامل ہوتی گئیں تاکہ علاقے کے مشترکہ دشمن اور درحقیقت بنی نوع انسان کے مشترکہ دشمن، یعنی سامراجیت اور صیہونیت، سے لڑ سکیں۔

• ملک کا غیر متزلزل دفاع:

یہ معاملہ زیادہ تر "تزویراتی صبر (Strategic Patience)" کے دور میں نمایاں تھا۔ یہ دور ایک طویل عرصے تک جاری رہا اور اس میں ایران اسرائیلی جارحیتوں کا جواب دینے یا اس سے بدلہ لینے سے گریز کرتا رہا تاکہ اپنی صلاحیتوں کو مضبوط کر سکے اور اپنی سخت ترین آزمائش سے عہدہ برآ ہوکر، امریکہ کی مسلط کردہ جنگ کا مقابلہ کر سکے؛ وہ جنگ جو اس سال [2026ع‍] کے آغاز پر شروع ہوئی اور ایران اس میں فاتح رہا۔ ایک انصاف پسند ایرانی پروفیسر نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر یہ ملک کچھ لبرل اصلاح پسندوں کے مطالبات مان لیتا اور ایران میں کسی قسم کی لبرل جمہوریت قائم کر دیتا، تو یہ ملک اس جنگ میں تباہ ہو جاتا۔ اور ایک کمزور اور دیوالیہ ملک بن جاتا، جیسے میرا اپنا ملک [آسٹریلیا]، جہاں تمام وسائل نجی ہو چکے ہیں۔ معیشت کو ایک برطانوی-امریکی مالی اشرافیہ چلا رہی ہوتی۔ اور ایران ہتھیاروں کی پیداوار بند کر دیتا تاکہ اسرائیلی "عظیم تر اسرائیل" کے قیام کے اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر ہوتا ہؤا دیکھ سکیں۔ یہ ایران کے اپنے اصولوں اور اپنے ترقیاتی ماڈل کو ترک کرنے کے نتائج ہو سکتے تھے۔

• مہربانی:

آخر میں، سید علی کے بارے میں ہماری یاد ایک مہربان دادا کی یاد ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے آخری دن تک مہربانی، بصیرت، محبت اور ایثار کی ایک مثال پیش کی۔ ہم اُن کی حتمی قربانی اور اس کے وقوع پذیر ہونے کی کیفیت کی خبر رکھتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ کسی ایسی پناہ گاہ میں رہنے پر راضی نہیں تھے جو اُنہیں ایران کے عوام سے الگ کر سکتی تھی۔

یہ وہ یاد ہے جو یہ غیر مسلم مغربی شخص سید علی خامنہ ای کے بارے میں رکھتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha